“If through the eye of truth you gaze upon yourself, within the mirror of the Divine, the human heart is revealed.”
اگر آپ حقیقت کی آنکھ سے اپنے آپ کو دیکھیں، تو خدا کے آئینے میں انسان کا دل موجود ہے۔
یہ شعر ہمیں ظاہری دنیا اور اپنی انا سے آگے بڑھ کر باطن کی گہرائیوں میں جھانکنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ شاعر نے کمال خوبصورتی سے بتایا ہے کہ اگر انسان حقیقت پسندی کی نگاہ سے خود شناسی کرے، تو حق تعالیٰ کے آئینے میں اسے اپنے ہی دل کا عکس نظر آئے گا۔ انسان کا دل دراصل وہ مقدس جگہ ہے جہاں کائنات کی سب سے بڑی سچائی اور نورِ الٰہی جلوہ گر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
