Sukhan AI
غزل

વિખવાદના છાંટા

વિખવાદના છાંટા
امرت گھائل· Ghazal· 7 shers

یہ غزل اختلافات اور تفرقے سے پیدا ہونے والے بکھرائو اور کشیدگی کو بیان کرتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ کس طرح بیرونی جھگڑے اور اندرونی اختلافات رشتوں اور ہم آہنگی کو ٹکڑے کر دیتے ہیں۔ یہ انسانیت کو امن اور اتحاد کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
2
અમારી આંખમાં છે આજ એની યાદના છાંટા, વિના વરસાદ આવે છે અહીં વરસાદના છાંટા!
ہماری آنکھ میں ہیں آج اس کی یاد کے چھینٹے، بنا برسات آتے ہیں یہاں برسات کے چھینٹے!
آج ہماری آنکھوں میں محبوب کی یاد کے آنسو ہیں جو بارش کے قطروں کی طرح بغیر کسی برسات کے برس رہے ہیں۔ یہ اشعار گہرے غم یا تڑپ کو ظاہر کرتے ہیں۔
4
દિલાસાનો હતો ખપ, દિ ગયા એ ક્યારના વીતી, હવે શા કામના મારે આ અવસર બાદના છાંટા?
دلاسے کی تھی حاجت، وہ دن کب کے گزر گئے،اب کیا کام کے میرے یہ فرصت کے بعد کے چھینٹے؟
مجھے دلاسے کی سخت ضرورت تھی، مگر وہ وقت تو کب کا بیت چکا ہے۔ اب جب ضرورت گزر گئی ہے، تو یہ فرصت کے بعد ملنے والے چند قطرے میرے کس کام کے؟
7
નિહાળી જામ, ‘ઘાયલ’ રંગમાં આવી ગયા કેવા? ઘણાં વર્ષો પછી જાણે થયા વરસાદના છાંટા!
نہالی جام، ‘غائل’ رنگ میں آ گئے کیسے؟کئی برسوں کے بعد جیسے ہوئے بارش کے چھینٹے!
جام کو دیکھتے ہی 'غائل' میں ایسی امنگ اور جوش بھر گیا، گویا کئی برسوں کی خشک سالی کے بعد بارش کی پہلی بوندیں گری ہوں۔ یہ ایک طویل انتظار کے بعد ملنے والی خوشی یا تحریک کی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.