غزل
વિખવાદના છાંટા
વિખવાદના છાંટા
یہ غزل اختلافات اور تفرقے سے پیدا ہونے والے بکھرائو اور کشیدگی کو بیان کرتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ کس طرح بیرونی جھگڑے اور اندرونی اختلافات رشتوں اور ہم آہنگی کو ٹکڑے کر دیتے ہیں۔ یہ انسانیت کو امن اور اتحاد کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ન પ્હોંચે છે કદી એના લગી ફરિયાદના છાંટા,
પછી જોવા મળે કયાંથી અમોને દાદના છાંટા?
نہ پہنچے ہیں کبھی اس تک شکایت کے چھینٹے،
پھر کیسے ملیں گے ہمیں انصاف کے چھینٹے؟
اگر شکایت کے چھینٹے کبھی اس تک نہیں پہنچتے، تو ہمیں انصاف کے چھینٹے کیسے ملیں گے؟
2
અમારી આંખમાં છે આજ એની યાદના છાંટા,
વિના વરસાદ આવે છે અહીં વરસાદના છાંટા!
ہماری آنکھ میں ہیں آج اس کی یاد کے چھینٹے، بنا برسات آتے ہیں یہاں برسات کے چھینٹے!
آج ہماری آنکھوں میں محبوب کی یاد کے آنسو ہیں جو بارش کے قطروں کی طرح بغیر کسی برسات کے برس رہے ہیں۔ یہ اشعار گہرے غم یا تڑپ کو ظاہر کرتے ہیں۔
3
મને બોલાવવા હિંમત કરી'તી પાંપણો ઢાળી,
હજીયે ભીંજવે છે એ અવાચક સાદના છાંટા!
مجھے بلانے کی ہمت کی تھی پلکیں جھکا کر،اب بھی بھگوتے ہیں وہ بے زبان پکار کے چھینٹے!
مجھے بلانے کی ہمت کی تھی پلکیں جھکا کر۔ اب بھی وہ بے زبان پکار کے چھینٹے مجھے بھگوتے ہیں۔
4
દિલાસાનો હતો ખપ, દિ ગયા એ ક્યારના વીતી,
હવે શા કામના મારે આ અવસર બાદના છાંટા?
دلاسے کی تھی حاجت، وہ دن کب کے گزر گئے،اب کیا کام کے میرے یہ فرصت کے بعد کے چھینٹے؟
مجھے دلاسے کی سخت ضرورت تھی، مگر وہ وقت تو کب کا بیت چکا ہے۔ اب جب ضرورت گزر گئی ہے، تو یہ فرصت کے بعد ملنے والے چند قطرے میرے کس کام کے؟
5
કહે છે, ત્યારથી અસ્તિત્વમાં આવ્યા છે કાંટાઓ,
પરસ્પર ફૂલમાં ઊડ્યા હતા વિખવાદના છાંટા.
کہتے ہیں، تبھی سے کانٹوں کا وجود آیا ہے،جب آپس میں پھولوں پر اڑتے تھے اختلاف کے چھینٹے۔
یہ کہا جاتا ہے کہ کانٹے تب سے وجود میں آئے جب پھولوں کے آپس میں تکرار اور اختلاف کی چھینٹیں اڑنے لگیں۔
6
ન લાગે કેમ મીઠો કંઠ આ સાગરકિનારાનો?
ભળ્યા છે એ મહીં ઝરણાં તણા કલનાદના છાંટા.
کیوں نہ لگے میٹھا کنٹھ اس ساگر کنارے کا؟گھلے ہیں اس میں جھرنوں کے کلناد کے چھینٹے
اس سمندر کنارے کی آواز میٹھی کیوں نہ لگے؟ اس میں جھرنوں کی شیریں آواز کی آمیزش ہے۔
7
નિહાળી જામ, ‘ઘાયલ’ રંગમાં આવી ગયા કેવા?
ઘણાં વર્ષો પછી જાણે થયા વરસાદના છાંટા!
نہالی جام، ‘غائل’ رنگ میں آ گئے کیسے؟کئی برسوں کے بعد جیسے ہوئے بارش کے چھینٹے!
جام کو دیکھتے ہی 'غائل' میں ایسی امنگ اور جوش بھر گیا، گویا کئی برسوں کی خشک سالی کے بعد بارش کی پہلی بوندیں گری ہوں۔ یہ ایک طویل انتظار کے بعد ملنے والی خوشی یا تحریک کی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
