غزل
વર્ષો જવાને જોઈએ
વર્ષો જવાને જોઈએ
یہ غزل وقت کے گزر جانے اور زندگی کی فانی فطرت پر ایک گہرا غور و فکر پیش کرتی ہے۔ شاعر نے زندگی کے اتار چڑھاؤ اور وقت کے مسلسل بہاؤ کے سامنے انسان کی فنائیت کو بیان کیا ہے۔ یہ نظم ہمیں حال میں جینا اور زندگی کے ہر لمحے کو اہمیت دینا سکھاتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
વર્ષો જવાને જોઈએ ત્યાં ક્ષણમાં જઈ ચડ્યો,
આશ્ચર્ય વચ્ચે એમના આંગણ જઈ ચડ્યો!
برسوں میں جہاں پہنچنا تھا، میں پل میں جا پہنچا،حیرت کے بیچ ان کے آنگن جا پہنچا!
جہاں برسوں میں پہنچنا تھا، میں پل بھر میں جا پہنچا. ان کی حیرانی کے بیچ میں ان کے آنگن میں پہنچ گیا۔
2
પૂછો નહીં કે આજ તો ક્યાં નીકળી ગયો,
કાજળને સ્પર્શવા જતા કામણમાં જઈ ચડ્યો!
مت پوچھو کہ آج میں کہاں نکل گیا، کاجل کو چھونے چلا، جادو میں جا پھنس گیا!
مت پوچھو کہ میں آج کہاں نکل گیا؛ کاجل کو چھونے چلا تھا اور اس کے جادو میں پھنس گیا تھا۔
3
અંધારમુક્ત થઈ ન શક્યો રોશની મહીં,
આંખોમાં આંખ નાખી તો પાંપણમાં જઈ ચડ્યો!
اندھیرے سے آزاد نہ ہو سکا روشنی میں بھی،آنکھوں میں آنکھ ڈالی تو پلکوں میں جا چڑھا!
روشنی میں بھی اندھیرے سے آزادی نہ مل سکی۔ جب آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا، تو وہ پلکوں میں ہی جا ٹھہرا۔
4
મનફાવે તેમ આભમાં ફંગોળતી રહી,
હું ક્યાંય નહિ ને ગેબની ગોફણમાં જઈ ચડ્યો.
من چاہے ڈھنگ سے آسمان میں اچھالتی رہی،
میں کہیں نہیں اور غیب کی گفَن میں جا پڑا۔
وہ مجھے اپنی مرضی سے آسمان میں اچھالتی رہی، اور میں کہیں نہیں رہا بلکہ غیب کی گوپن میں جا پڑا۔
5
કૈં ચાંદની જ એવી હતી, ભાન ના રહ્યું;
જાવું હતું સમુદ્ર ભણી, રણમાં જઈ ચડ્યો!
کچھ چاندنی ہی ایسی تھی، ہوش نہ رہا؛ جانا تھا سمندر کی طرف، صحرا میں جا پہنچا!
چاندنی اتنی دلکش تھی کہ میں اپنی سُدھ بُدھ کھو بیٹھا۔ مجھے سمندر کی طرف جانا تھا، لیکن میں غلطی سے صحرا میں جا پہنچا۔
6
ન્હોતી ખબર જવાય નહીં એમ સ્વર્ગમાં;
પ્હેર્યું હતું હું એ જ પહેરણમાં જ ચડ્યો!
نہیں تھی خبر، یوں جنت میں جایا نہیں جاتا؛
پہنا تھا جو، اسی پہران میں میں چڑھ گیا!
مجھے خبر نہیں تھی کہ جنت میں اس طرح نہیں جایا جاتا؛ میں اسی لباس میں اوپر چڑھ گیا جو میں نے پہنا ہوا تھا۔
7
'ઘાયલ' ગયો'તો કેમ સુરાલયમાં શું કહું?
ખૂબ જ હતો હું આજ વિમાસણમાં, જઈ ચડ્યો.
'غائل' کیوں گیا تھا مے خانے میں، میں کیا کہوں؟میں تھا بہت پریشان آج، وہیں جا پہنچا۔
'غائل' کیوں گیا تھا مے خانے میں، میں کیا کہوں؟ میں بہت پریشان تھا آج، بس وہیں جا پہنچا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
