غزل
શૂન્ય કરતાં તો...
શૂન્ય કરતાં તો...
یہ غزل زندگی کی پیچیدگیوں اور انسانی جذبات کی گہرائی کو بیان کرتی ہے۔ اس میں محبت، جدائی، اور وجود کے معنی جیسے موضوعات پر غور کیا گیا ہے۔ شاعر نے اپنی تخلیق میں ایک فلسفیانہ نقطہ نظر استعمال کرتے ہوئے قاری کو خود احتسابی کی طرف راغب کیا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
કેમ ભૂલી ગયા? દટાયો છું.
આ ઈમારતનો હું ય પાયો છું.
کیوں بھول گئے؟ میں دفن ہوں۔اس عمارت کی میں بھی تو بنیاد ہوں۔
کیوں بھول گئے؟ میں دفن ہوں۔ میں بھی تو اس عمارت کی بنیاد ہوں۔
2
હું હજી પૂર્ણ ક્યાં કળાયો છું?
અડધોપડધો જ ઓળખાયો છું.
میں ابھی مکمل کہاں سمجھا گیا ہوں؟آدھا ادھورا ہی پہچانا گیا ہوں
اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اسے ابھی مکمل طور پر سمجھا نہیں گیا ہے بلکہ وہ صرف آدھا ادھورا ہی پہچانا گیا ہے۔
3
વિસ્તર્યા વિણ બધેય છાયો છું!
હું અજબ રીતથી ઘવાયો છું!
پھیلے بِنا میں ہر سُو چھایا ہوں! میں عجب انداز سے زخمی ہوا ہوں!
پھیلے بِنا میں ہر سُو چھایا ہوں! میں عجب انداز سے زخمی ہوا ہوں!
4
આમ તો એક બિંદુ છું કિંતુ
સ્પત સિંધુથી સંકળાયો છું!
عام تو اک قطرہ ہوں لیکن ہفت سمندر سے جڑا ہوا ہوں!
لفظی معنی کے اعتبار سے، میں تو ایک قطرہ ہوں لیکن ہفت سمندر سے جڑا ہوا ہوں۔
5
સૂર્યની જેમ સળગ્યો છું વર્ષો,
ચંદ્રની જેમ ચોડવાયો છું!
سورج کی طرح برسوں جلا ہوں،چاند کی طرح گہنایا گیا ہوں!
میں برسوں سے سورج کی طرح جلتا رہا ہوں، اور چاند کی طرح مجھ پر گہن پڑا ہے۔
6
વઢ નથી વિપ્ર, આ જનોઈ નો,
આમ હું આડેધડ કપાયો છું.
جھگڑا نہیں ہے، وِپر، اس جنیو کا،یوں میں بے ترتیبی سے کٹا ہوں۔
اے وِپر، یہ جھگڑا اس جنیو کا نہیں ہے، بلکہ میں یوں ہی بے ترتیبی سے کٹا ہوں۔
7
રામ જાણે શું કામ હું જ મને,
સર્પની જેમ વીંટળાયો છું!
رام جانے کس کام میں ہی خود کو،سانپ کی طرح لپیٹا ہوں!
خدا جانے کس وجہ سے میں نے خود ہی خود کو سانپ کی طرح لپیٹ لیا ہے۔
8
એ જ છે પ્રશ્ન: કોણ કોનું છે?
હુંય મારો નથી, પરાયો છું!
وہی ہے سوال: کون کس کا ہے؟میں بھی اپنا نہیں، پرایا ہوں!
وہی بنیادی سوال ہے کہ کون کس کا ہے؟ میں تو خود اپنا بھی نہیں ہوں، بلکہ میں پرایا ہوں۔
9
સાચું પૂછો તો સત્યના પંથે,
ખોટી વાતોથી દોરવાયો છું!
سچ پوچھو تو سچ کے رستے پر،
جھوٹی باتوں سے بہکایا گیا ہوں!
سچ پوچھیے تو سچ کے راستے پر ہوتے ہوئے بھی، مجھے جھوٹی باتوں سے بہکایا گیا ہے۔
10
ઊંચકે કોણ પંથ ભૂલ્યાને?
આપમેળે જ ઊંચકાયો છું.
اونچا اٹھائے کون راہ بھولے کو؟آپ ہی آپ ہی اونچا اٹھا ہوں
راہ بھولے ہوئے کو کون اٹھائے؟ میں اپنے آپ ہی اٹھا ہوں۔
11
મીંડું સરવાળે છું છતાં ‘ઘાયલ’,
શૂન્ય કરતાં તો હું સવાયો છું.
مجموعے میں میں صفر ہوں اے 'غائل',
مگر صفر سے تو میں سوا ہوں۔
شاعر 'غائل' فرماتے ہیں کہ اگرچہ وہ مجموعے میں صفر کے برابر ہیں، لیکن پھر بھی وہ صفر سے سوا ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
