غزل
रात तो ज़रा देखो!
रात तो ज़रा देखो!
یہ غزل زندگی کے اتار چڑھاؤ اور وقت کے گزرنے پر ایک فلسفیانہ تنقید ہے۔ شاعر نے انسان کو ہر حالات میں امید کاجذبہ बनाए रखने اور زندگی کے لمحات کو بھرپور طریقے سے جینے کی ترغیب دی ہے۔ یہ ایک جذباتی اور فکری پیشکش ہے جو دل کو سکون اور مثبت توانائی فراہم کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
નભ છે કે અંધકારનું વન! રાત તો જુઓ!
તારક છે કે સરપનાં નયન! રાત તો જુઓ!
نَبھ ہے کہ اندھیروں کا بَن! رات تو دیکھو!تارک ہیں کہ سانپوں کے نین! رات تو دیکھو!
یہ آسمان ہے یا اندھیروں کا جنگل، ذرا رات تو دیکھو! یہ تارے ہیں یا سانپوں کی آنکھیں، ذرا اس رات کا منظر تو دیکھو!
2
ફંગોળતી ફરે છે ગવન! રાત તો જુઓ!
ધમરોળતી રહે છે ગગન! રાત તો જુઓ!
پھنگولتی پھرتی ہے گگن! رات تو دیکھو!مَتھتی رہتی ہے گگن! رات تو دیکھو!
رات کو آسمان میں اچھلتے اور گھومتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ مسلسل آسمان کو متھتی رہتی ہے؛ رات کی اس متحرک کیفیت کو دیکھو۔
3
કરવા જ ક્યાં દીએ છે ગમન! રાત તો જુઓ!
ગૂંચળું વળી પડયો છે પવન! રાત તો જુઓ!
گمن کرنے ہی کہاں دیتی ہے! رات تو دیکھو!ہوا گُونچلہ ہو کر پڑی ہے! رات تو دیکھو!
یہ رات گمن کرنے ہی کہاں دیتی ہے۔ رات کی خاموشی تو دیکھو، ہوا بھی گُونچلہ ہو کر پڑی ہے!
4
તમિસ્રના તળાવની પાળે ખડી ખડી,
વેરી રહી છે ઊજળું ધન! રાત તો જુઓ!
تمیسر کے تالاب کے کنارے کھڑی کھڑی، بکھیر رہی ہے روشن دولت! رات تو دیکھو!
تاریکی کے تالاب کے کنارے کھڑی ہو کر وہ روشن دولت بکھیر رہی ہے۔ ذرا رات تو دیکھو!
5
સમડી સમયની આડ લઈ અંતરિક્ષની,
ચૂંથી રહી છે વિશ્વનું મન! રાત તો જુઓ!
سمڑی وقت کی اوٹ لے کر خلا کی،چونتھ رہی ہے دنیا کا من! رات تو دیکھو!
ایک چیل، وقت اور خلا کی اوٹ لے کر، دنیا کے من کو نوچ رہی ہے۔ ذرا رات تو دیکھو!
6
કોલાહલો શ્વસે છે ઉડુગણની આંખમાં!
આવે તો કયાંથી આવે સ્વપ્ન! રાત તો જુઓ!
کہرام سانس لیتا ہے ستاروں کی آنکھوں میں! آئے تو کہاں سے آئے خواب؟ رات تو دیکھو!
کہرام ستاروں کی آنکھوں میں سانس لے رہا ہے؛ ایسے میں خواب کہاں سے آ سکتے ہیں؟ ذرا اس رات کو تو دیکھو!
7
કીધો નથી પ્રભાતે હજી સ્પર્શ તોય પણ
ચોરી રહી છે કેવું બદન! રાત તો જુઓ!
پربھات نے ابھی مس نہیں کیا ہے، پھر بھی کیسا بدن چرا رہا ہے! رات تو دیکھو!
پربھات نے ابھی چھوا بھی نہیں ہے، پھر بھی دیکھو یہ رات کیسا بدن چرا رہی ہے۔ ذرا رات کو تو دیکھو!
8
‘ઘાયલ’ મલીર ઓઢણી ઓઢી દિવસ તણું,
સીવી રહી છે શ્વેત કફન! રાત તો જુઓ!
غائل' دن، اپنی ملیری اوڑھنی اوڑھ کر، سی رہا ہے سفید کفن! رات تو دیکھو!'
شاعر 'غائل' دن کو دیکھتا ہے، جو اپنی دھندلی اوڑھنی پہنے ہوئے ہے، اور وہ سفید کفن سی رہا ہے۔ ذرا رات تو دیکھو!
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
