کہرام سانس لیتا ہے ستاروں کی آنکھوں میں! آئے تو کہاں سے آئے خواب؟ رات تو دیکھو!
“Commotion breathes in the eyes of the stars! Whence can dreams arrive? Just behold the night!”
— امرت گھائل
معنی
کہرام ستاروں کی آنکھوں میں سانس لے رہا ہے؛ ایسے میں خواب کہاں سے آ سکتے ہیں؟ ذرا اس رات کو تو دیکھو!
تشریح
یہ شعر زندگی کے شور اور خوابوں کے منبع پر ایک گہرا فلسفہ پیش کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ ہر خواب، ہر خیال کی جڑ اس خاموش، پراسرار رات میں ہے۔
