Sukhan AI
غزل

خبر ہے

خبر ہے
امرت گھائل· Ghazal· 9 shers

یہ غزل کسی پراسرار یا ان کہی کیفیت کے بارے میں ہے جو دل کے کسی گوشے میں بسی ہوئی ہے۔ شاعر اس احساس کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، جسے نہ مکمل طور پر سمجھا جا سکے اور نہ بھلایا جا سکے۔ یہ احساس زندگی کی پیچیدگیوں اور عدمِ یقین کو عکاسی کرتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
એને અમે નિત્ય ઉપાસી છે ખબર છે, મસ્તીનો અંજામ ઉદાસી છે ખબર છે.
اُسی کو ہم نے نت اُپاسا ہے، خبر ہے،اس مستی کا انجام اُداسی ہے، خبر ہے
ہمیں معلوم ہے کہ ہم نے ہمیشہ فقط اُسی کی پرستش کی ہے، اور یہ بھی معلوم ہے کہ اس مستی کا انجام اُداسی ہے۔
2
મીન બધાં જળના નિવાસી છે ખબર છે, બે ચાર ઘડીના વિલાસી છે ખબર છે.
یہ مچھلیاں سب پانی کی مکین ہیں، خبر ہے،دو چار گھڑی کے وہ عیاش ہیں، خبر ہے ۔
یہ مچھلیاں سب پانی کی مکین ہیں، خبر ہے۔ وہ دو چار گھڑی کے عیاش ہیں، خبر ہے۔
3
બહુ ભયમાં બધા ભોળા પ્રવાસી છે ખબર છે, હોડીના ખૂટેલ ખલાસી છે ખબર છે.
بہت خوف میں سب سادہ دل مسافر ہیں، معلوم ہے،اس کشتی کے گمشدہ ملاح ہیں، معلوم ہے
بہت خوف میں سب سادہ دل مسافر ہیں، اور یہ معلوم ہے کہ اس کشتی کے ملاح غائب ہیں۔
4
ઝૂરે છે દિશાઓ અને ભેંકાર રડે છે, રાત અજંપાની અગાસી છે ખબર છે.
سمتیں روتی ہیں اور بھیانک چیخ اٹھتی ہے، یہ رات بے چینی کی چھت ہے، کیا تمہیں خبر ہے؟
سمتیں روتی ہیں اور بھیانک چیخ اٹھتی ہے، یہ رات بے چینی کی چھت ہے، کیا تمہیں خبر ہے؟
5
વાતાવરણમાં છે તાસીર રતિની, નાડ એની મેં કૈં વાર તપાસી છે ખબર છે.
اس ماحول میں ہی ہے تاثیر محبت کی، نبض اس کی میں نے کئی بار جانچی ہے، خبر ہے
اسی ماحول میں محبت کا حقیقی جوہر پایا جاتا ہے، میں نے اس کی نبض کئی بار جانچی ہے اور مجھے اس کی حقیقت کا بخوبی علم ہے۔
6
અમને કહો એની ચટક હોય છે કેવી, કળીઓને એમ ખૂબ ચકાસી છે ખબર છે.
ہمیں نہ کہو اس کی چٹک کیسی ہوتی ہے،کلیوں کو یوں بہت پرکھا ہے، خبر ہے۔
ہمیں نہ کہو اس کی چٹک کیسی ہوتی ہے، کلیوں کو یوں بہت پرکھا ہے، خبر ہے۔
7
મ્હેંકે છે છતાં એમની પત્તી વિષે અત્તર, ફૂલ બધાં આમ તો વાસી છે ખબર છે.
مہک رہا ہے پھر بھی ان کی پتی پر عطر، یہ سارے پھول ویسے تو باسی ہیں، خبر ہے
اگرچہ یہ معلوم ہے کہ یہ تمام پھول باسی ہیں، پھر بھی ان کی پتیوں پر عطر کی خوشبو باقی ہے۔
8
કંટકનું ગજું શું કે પ્રવેશી શકે પગમાં, મારી પેનીમાં કપાસી છે ખબર છે.
کانٹے کی کیا بساط کہ میرے پاؤں میں گھس جائے،میری ہی ایڑی میں گٹھلی ہے، خبر ہے مجھے۔
کانٹے کی کیا بساط کہ میرے پاؤں میں گھس جائے؟ مجھے خبر ہے کہ میری ہی ایڑی میں گٹھلی ہے۔
9
પીએ છે સ્વયં એથી અધિક પાય છે સહુને, 'ઘાયલ' તો પિયાસીના પિયાસી છે ખબર છે.
پیتے ہیں خود، اس سے بڑھ کر پلاتے ہیں سب کو، 'گھایل' تو پیاسوں کے پیاسے ہیں، یہ خبر ہے۔
وہ خود پیتا ہے، مگر سب کو خود سے زیادہ پلاتا ہے۔ یہ خبر ہے کہ 'گھایل' تو پیاسوں کے پیاسے ہیں۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

خبر ہے | Sukhan AI