غزل
کب سے یوں ہی میں اس مینا بازار میں محو کھڑا ہوں
کب سے یوں ہی میں اس مینا بازار میں محو کھڑا ہوں
یہ غزل ایک مینا بازار کے پرجوش ماحول میں مکمل طور پر مسحور اور کھو جانے کے احساس کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کافی عرصے سے سحر زدہ کھڑا ہونے کا ذکر کرتا ہے، جو ہجوم والے بازار کے بیچ کسی چیز یا شخص کے لیے گہری تعریف یا آرزو کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
કૈં ક્યારનો આમ જ મુગ્ધ બની આ મીના બજારે ઊભો છું,
લાગી છે કતારો નજરોની, નજરોની, કતારે ઊભો છું.
کتنی دیر سے یوں ہی محو بنا میں اس مینا بازار میں کھڑا ہوں،لگی ہیں قطاریں نظروں کی، نظروں کی، قطار میں کھڑا ہوں
شاعر کہتا ہے کہ وہ کتنی دیر سے اس مینا بازار میں محو کھڑا ہے۔ اس پر نظروں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں، اور وہ انہی نظروں کی قطار میں کھڑا ہے۔
2
પ્રત્યેક ગતિ, પ્રત્યેક સ્થિતિ, નિર્ભર છે, અહીં સંકેત ઉપર,
એના જ ઇશારે ચાલ્યો’તો, એના જ ઇશારે ઊભો છું.
ہر حرکت، ہر حالت، منحصر ہے، یہاں اشارے پر،
اُس کے ہی اشارے پر چلا تھا، اُس کے ہی اشارے پر کھڑا ہوں۔
ہر حرکت اور ہر حالت یہاں کسی اشارے پر منحصر ہے۔ میں اُس کے ہی اشارے پر چلا تھا اور اُس کے ہی اشارے پر کھڑا ہوں۔
3
આ તારી ગલીથી ઊઠી જવું સાચે જ નથી મુશ્કિલ કિન્તુ,
તું સાંભળશે તો શું કહેશે! બસ એ જ વિચારે ઊભો છું.
اس تری گلی سے اٹھ جانا سچ نہیں مشکل لیکن، تو سنے گی تو کیا کہے گی! بس اسی سوچ میں کھڑا ہوں
شاعر کے لیے محبوبہ کی گلی چھوڑ کر جانا دراصل مشکل نہیں ہے، لیکن اسے یہ تشویش ہے کہ جب محبوبہ یہ سنے گی تو کیا کہے گی۔ بس اسی خیال سے وہ ابھی تک وہاں کھڑا ہے۔
4
આ દરિયાદિલી દરિયાની, હવા આકંઠ પીવા કેરી ય મજા,
ચાલ્યા જ કરું છું તેમ છતાં લાગે છે, કિનારે ઊભો છું.
یہ دریا دلی دریا کی، ہوا حلق تک پینے کا بھی مزا،چلتا ہی رہتا ہوں پھر بھی لگتا ہے، کنارے کھڑا ہوں۔
اس میں سمندر کی بے پناہ سخاوت اور اس کی ہوا کو حلق تک پینے کا لطف بیان کیا گیا ہے۔ مسلسل چلتے رہنے کے باوجود، بولنے والے کو محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ابھی بھی کنارے پر کھڑا ہے، جو کسی بھی قسم کی پیش رفت کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
5
સમજાતું નથી કે ક્યાંથી મને આ આવું લાગ્યું છે ઘેલું!
જકારો મળ્યો’તો જ્યાં સાંજે ત્યાં આવી, સવારે ઊભો છું.
سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں سے مجھ کو یہ ایسا جنون چڑھا ہے!جہاں شام کو ملی تھی جھڑکی، وہاں آ کر، صبح میں کھڑا ہوں
مقرر حیران ہے کہ اسے یہ دیوانگی یا جنون کہاں سے چڑھا ہے۔ گزشتہ شام جس جگہ اسے جھڑکی یا انکار ملا تھا، اگلی صبح وہ پھر اسی جگہ آ کر کھڑا ہے۔
6
સાચે જ જનાજા જેવી છે, એ દોસ્ત, દશા મારીય હવે.
કાલેય મજારે ઊભો’તો, આજે ય મજારે ઊભો છું!
سچ مچ جنازے جیسی ہے، اے دوست، دَشا میری بھی اب۔کل بھی مزار پر کھڑا تھا، آج بھی مزار پر کھڑا ہوں!
اے دوست، میری حالت اب سچ مچ جنازے جیسی ہے۔ کل بھی میں مزار پر کھڑا تھا اور آج بھی مزار پر ہی کھڑا ہوں۔
7
જોયા છે ઘણાને મેં ‘ઘાયલ’ આ ટોચેથી ફેંકાઈ જતાં,
એકાદ ઘડી આ તો એમ જ આવીને મિનારે ઊભો છું.
دیکھے ہیں کئی 'گھائل' اس چوٹی سے پھینکے جاتے ہوئے، اک پل کو ہی بس یوں ہی آ کر میں مینار پر کھڑا ہوں
شاعر 'گھائل' کہتا ہے کہ اس نے کئی لوگوں کو اس اونچی چوٹی سے نیچے پھینکے جاتے دیکھا ہے۔ وہ خود تو بس ایک پل کے لیے ہی یوں ہی آ کر مینار پر کھڑا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
