سچ مچ جنازے جیسی ہے، اے دوست، دَشا میری بھی اب۔کل بھی مزار پر کھڑا تھا، آج بھی مزار پر کھڑا ہوں!
“Truly, my state, oh friend, is now like a funeral bier.Yesterday too I stood at a shrine, today too I stand here!”
— امرت گھائل
معنی
اے دوست، میری حالت اب سچ مچ جنازے جیسی ہے۔ کل بھی میں مزار پر کھڑا تھا اور آج بھی مزار پر ہی کھڑا ہوں۔
تشریح
یہ شعر وقت کے گزرنے اور زندگی کی بے ثباتی پر ایک گہرا فلسفہ ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ میری حالت بھی اب ایک جنازے جیسی ہو چکی ہے۔ اور وہ कहते हैं कि کل بھی میں مزار پر کھڑا تھا، اور آج بھی مزار پر کھڑا ہوں! یہ وقت کے ٹھہراؤ کا اظہار ہے، ایک گہرا دکھ!
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
