غزل

زحال مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں

زحال مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں
امیر خسرو· Ghazal· 5 shers

امیر خسرو کی یہ لازوال غزل فارسی اور برج بھاشا کے دلکش امتزاج کے ذریعے ہجر و فراق کے گہرے کرب کو بیان کرتی ہے۔ اس میں عاشق اپنے محبوب سے التجا کرتا ہے کہ وہ اس کے حالِ زار سے تغافل نہ برتے اور جدائی کی طویل اور تاریک راتوں کے عذاب کا مداوا کرے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
ज़े-हाल-ए-मिस्कीं मकुन तग़ाफ़ुल दुराय नैनाँ बनाए बतियाँ कि ताब-ए-हिज्राँ नदारम ऐ जाँ न लेहू काहे लगाए छतियाँ
زحال مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
میری لاچار حالت سے نظریں چرا کر اور بہانے بنا کر مجھے نظر انداز نہ کرو؛ کیونکہ مجھ میں جدائی سہنے کی طاقت نہیں رہی، اے میری جان، تم مجھے اپنے سینے سے کیوں نہیں لگا لیتے؟
2
शबान-ए-हिज्राँ दराज़ चूँ ज़ुल्फ़ ओ रोज़-ए-वसलत चूँ उम्र-ए-कोताह सखी पिया को जो मैं न देखूँ तो कैसे काटूँ अँधेरी रतियाँ
شبان ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلت چوں عمر کوتاہ سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
جدائی کی راتیں زلفوں کی طرح لمبی ہیں اور ملن کا دن زندگی کی مانند مختصر ہے۔ اے سہیلی، اگر میں اپنے محبوب کو نہ دیکھوں تو یہ اندھیری راتیں کیسے کاٹوں؟
3
यकायक अज़ दिल दो चश्म जादू ब-सद-फ़रेबम ब-बुर्द तस्कीं किसे पड़ी है जो जा सुनावे पियारे पी को हमारी बतियाँ
یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم بہ برد تسکیں کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں
اچانک ان دو جادوئی آنکھوں نے سینکڑوں فریبوں سے میرے دل کا سکون چھین لیا۔ اب کس کو اتنی پروا ہے جو جا کر میرے پیارے محبوب کو میری باتیں اور حال سنائے؟
4
चूँ शम-ए-सोज़ाँ चूँ ज़र्रा हैराँ ज़ मेहर-ए-आँ-मह बगश्तम आख़िर न नींद नैनाँ न अंग चैनाँ न आप आवे न भेजे पतियाँ
چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں ز مہر آں مہ بگشتم آخر نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آوے نہ بھیجے پتیاں
اس چاند جیسے محبوب کے عشق میں بالآخر میں جلتی ہوئی شمع اور ایک حیران ذرے کی مانند ہو گیا ہوں۔ اب نہ میری آنکھوں میں نیند ہے اور نہ بدن کو چین، نہ وہ خود آتے ہیں اور نہ کوئی خط بھیجتے ہیں۔
5
ब-हक़्क़-ए-आँ मह कि रोज़-ए-महशर ब-दाद मारा फ़रेब 'ख़ुसरव' सपीत मन के दुराय राखूँ जो जाए पाऊँ पिया की खतियाँ
بحق آں مہ کہ روز محشر بداد مارا فریب خسروؔ سپیت من کے دورائے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کی کھتیاں
مجھے اس چاند جیسے محبوب کی قسم جس نے روزِ محشر خسرو کو فریب دیا، کہ اگر مجھے اپنے محبوب کا کوئی خط مل جائے تو میں اسے اپنے پاکیزہ دل میں چھپا کر رکھوں گا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.