چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں ز مہر آں مہ بگشتم آخر نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آوے نہ بھیجے پتیاں

“Like a burning candle, a bewildered speck lost at last in the radiant love of that moon; No sleep visits my eyes, no rest soothes my body, neither does my beloved come, nor send a letter.”

— امیر خسرو
معنی

اس چاند جیسے محبوب کے عشق میں بالآخر میں جلتی ہوئی شمع اور ایک حیران ذرے کی مانند ہو گیا ہوں۔ اب نہ میری آنکھوں میں نیند ہے اور نہ بدن کو چین، نہ وہ خود آتے ہیں اور نہ کوئی خط بھیجتے ہیں۔

تشریح

امیر خسرو نے اس شعر میں فارسی اور برج بھاشا کا ایسا جادوئی سنگم سجایا ہے جو فراق کی تڑپ کو امر کر دیتا ہے۔ پہلے مصرع میں عاشق محبوب کے روپ کی تاب نہ لا کر جلتی ہوئی شمع اور بھٹکے ہوئے ذرے کی طرح اس کے نور میں گم ہو جاتا ہے۔ دوسرے مصرع میں یہ درد بے حد اپنا سا لگتا ہے، جہاں انتظار کی انتہا ہے—نہ آنکھوں میں نیند ہے، نہ تن کو چین، اور محبوب کی بے رخی ایسی کہ نہ وہ خود آتا ہے نہ کوئی چٹھی بھیجتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.