“Turn not your gaze away, spinning excuses, while ignoring my forlorn state; / For I have no strength left to endure this parting, beloved, why not hold me to your chest?”
میری لاچار حالت سے نظریں چرا کر اور بہانے بنا کر مجھے نظر انداز نہ کرو؛ کیونکہ مجھ میں جدائی سہنے کی طاقت نہیں رہی، اے میری جان، تم مجھے اپنے سینے سے کیوں نہیں لگا لیتے؟
امیر خسرو کا یہ لاجواب شعر فارسی اور برج بھاشا کے دلکش سنگم سے دل کی بے تابی کو عیاں کرتا ہے۔ عاشق اپنے محبوب سے التجا کر رہا ہے کہ وہ نظریں چرا کر اور بہانے بنا کر اس کی بے بسی کو نظر انداز نہ کرے، کیونکہ اب ہجر کا غم سہنے کی سکت باقی نہیں رہی۔ یہ شعر دوری کی اذیت اور محبوب کے سینے سے لگ کر قرار پانے کی ایک بے لوث اور بے قرار تڑپ کا خوبصورت عکس ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
