“By that radiant moon who deceived Khusrau on Judgment Day, I swear: I would conceal it deep within my faithful heart, could I but find a letter from my beloved.”
مجھے اس چاند جیسے محبوب کی قسم جس نے روزِ محشر خسرو کو فریب دیا، کہ اگر مجھے اپنے محبوب کا کوئی خط مل جائے تو میں اسے اپنے پاکیزہ دل میں چھپا کر رکھوں گا۔
امیر خسرو کا یہ لاجواب شعر فارسی اور ہندوی کے حسین امتزاج کا دلکش نمونہ ہے۔ پہلے مصرعے میں وہ فارسی کے جاہ و جلال کے ساتھ اپنے چاند جیسے بے وفا محبوب کی قسم کھاتے ہیں، مگر دوسرے مصرعے میں ہندوی کی لوک مٹھاس دل کو موہ لیتی ہے۔ عاشق بے پایاں چاہت سے کہتا ہے کہ اگر مجھے اپنے پیا کا کوئی خط نصیب ہو جائے، تو میں اسے زمانے سے چھپا کر اپنے سچے اور پاکیزہ دل کے نہاں خانے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لوں گا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
