“The nights of parting stretch as long as tresses, while the day of union is as fleeting as life; O dear friend, if I behold not my beloved, how shall I endure these dark and lonely nights?”
جدائی کی راتیں زلفوں کی طرح لمبی ہیں اور ملن کا دن زندگی کی مانند مختصر ہے۔ اے سہیلی، اگر میں اپنے محبوب کو نہ دیکھوں تو یہ اندھیری راتیں کیسے کاٹوں؟
امیر خسرو نے اس شاہکار شعر میں فارسی اور ہندوی کو یکجا کر کے ہجر اور وصال میں وقت کے احساس کو کمال نزاکت سے پرویا ہے۔ جدائی کی لمبی راتیں محبوب کی دراز زلفوں کی مانند ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں، جبکہ ملن کا دن زندگی کی طرح پل بھر میں بیت جاتا ہے۔ اپنی سہیلی سے دل کا درد بیان کرتے ہوئے عاشق تڑپ کر پوچھتا ہے کہ اگر محبوب کا دیدار ہی نہ ہو، تو یہ اندھیری اور کٹھن راتیں بھلا کس طرح کٹیں گی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
