“All at once, those two bewitching eyes with a hundred deceptions robbed my heart of peace; who now cares enough to go and carry the tale of my longing to my beloved?”
اچانک ان دو جادوئی آنکھوں نے سینکڑوں فریبوں سے میرے دل کا سکون چھین لیا۔ اب کس کو اتنی پروا ہے جو جا کر میرے پیارے محبوب کو میری باتیں اور حال سنائے؟
یہ شعر فارسی اور ہندوی کے دلکش سنگم سے محبت کی اچانک اور بے بس کر دینے والی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ محبوب کی جادو بھری آنکھوں نے پلک جھپکتے ہی سو فریب کے ساتھ دل کا سارا قرار اور سکون چھین لیا ہے۔ اس وار کے بعد عاشق کی تنہائی اور بے چارگی کا یہ عالم ہے کہ زمانے میں کوئی ایسا ہمدرد نہیں بچا جو جا کر پیارے محبوب کو اس بکھرے ہوئے دل کا حال سنا سکے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
