غزل

ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر

ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر
الطاف حسین حالی· Ghazal· 9 shers· radif: पर

یہ غزل اپنی خطاؤں اور کوتاہیوں کے باوجود محبوبِ حقیقی کی رحمت و عطا پر مکمل توکل اور بھروسے کو بیان کرتی ہے۔ اس میں دنیا سے بے تعلقی اختیار کر کے اپنے رب یا معشوق کے حضور مکمل سپردگی اور وفاداری کا والہانہ اظہار ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
है ये तकिया तिरी अताओं पर वही इसरार है ख़ताओं पर
ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر وہی اصرار ہے خطاؤں پر
2
रहें ना-आश्ना ज़माने से हक़ है तेरा ये आश्नाओं पर
رہیں نا آشنا زمانہ سے حق ہے تیرا یہ آشناؤں پر
3
रहरवो बा-ख़बर रहो कि गुमाँ रहज़नी का है रहनुमाओं पर
رہروو با خبر رہو کہ گماں رہزنی کا ہے رہنماؤں پر
4
है वो देर आश्ना तो ऐब है क्या मरते हैं हम इन्हीं अदाओं पर
ہے وہ دیر آشنا تو عیب ہے کیا مرتے ہیں ہم انہیں اداؤں پر
5
उस के कूचे में हैं वो बे-पर ओ बाल उड़ते फिरते हैं जो हवाओं पर
اس کے کوچہ میں ہیں وہ بے پر و بال اڑتے پھرتے ہیں جو ہواؤں پر
6
शहसवारों पे बंद है जो राह वक़्फ़ है याँ बरहना पाँव पर
شہسواروں پہ بند ہے جو راہ وقف ہے یاں برہنہ پاؤں پر
7
नहीं मुनइ'म को उस की बूँद नसीब मेंह बरसता है जो गदाओं पर
نہیں منعم کو اس کی بوند نصیب مینہ برستا ہے جو گداؤں پر
8
नहीं महदूद बख़्शिशें तेरी ज़ाहिदों पर न पारसाओं पर
نہیں محدود بخششیں تیری زاہدوں پر نہ پارساؤں پر
9
हक़ से दरख़्वास्त अफ़्व की 'हाली' कीजे किस मुँह से इन ख़ताओं पर
حق سے درخواست عفو کی حالیؔ کیجے کس منہ سے ان خطاؤں پر
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.