“Those who once soared high upon the winds, lie stripped of wing and plume within her lane.”
جو لوگ ہواؤں میں اڑتے پھرتے ہیں، وہ محبوب کی گلی میں پہنچ کر پر کٹے اور لاچار ہو جاتے ہیں۔
یہ شعر عشق کی اس پرتاثیر طاقت کی عکاسی کرتا ہے جو بڑی سے بڑی انا اور غرور کو خاک میں ملا دیتی ہے۔ جو پرندے کل تک ہواؤں کے دوش پر فخر و شان سے اڑتے پھرتے تھے، محبوب کی گلی میں قدم رکھتے ہی بے بس اور بے پر و بال ہو کر رہ جاتے ہیں۔ شاعر بڑے پیار سے یہ نکتہ سمجھا رہا ہے کہ سچی محبت کی دہلیز پر پہنچ کر اونچی اڑان بھرنے والے بھی خوشی خوشی اپنی آزادی اور انا ہار جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
