ہے وہ دیر آشنا تو عیب ہے کیا مرتے ہیں ہم انہیں اداؤں پر

“If she takes time to warm to love, what flaw is that? / It is for these very coy graces that I die.”

— الطاف حسین حالی
معنی

اگر محبوب دیر سے مانوس ہوتا ہے تو اس میں کیا برائی ہے؟ ہم تو اس کے انہی ناز و انداز پر جان دیتے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں عاشق اپنے محبوب کی جھجک اور دیر سے مانوس ہونے کے انداز کو خامی کے بجائے اس کا خاص حسن قرار دیتا ہے۔ کسی کا فوراً گھل مل نہ جانا بظاہر بے رخی لگ سکتا ہے، مگر عشق میں یہی نزاکت اور پردہ دل کو سب سے زیادہ لبھاتا ہے۔ شاعر بڑی سادگی سے سمجھاتا ہے کہ محبت میں جلدی کیسی، اصل لطف تو اسی ناز اور دھیمے پن پر جان نچھاور کرنے میں ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.