“With what face, O Hali, could one plead to the Almighty for pardon, burdened by such grave transgressions as these?”
اے حالی! ان گناہوں اور خطاؤں کے ہوتے ہوئے انسان کس منہ سے اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کرے۔
اس شعر میں حالیؔ ندامت اور احساسِ گناہ کی اس کسک کو بیان کر رہے ہیں جہاں انسان شرم کے مارے خدا کے حضور سر اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہتا۔ ’کس منہ سے‘ کا محاورہ اس گہری جھجھک اور شرمساری کو ظاہر کرتا ہے کہ خطائیں اتنی بڑی ہیں کہ معافی کا سوال کرنا بھی جسارت معلوم ہوتا ہے۔ یہ دراصل بارگاہِ الٰہی میں عاجزی اور سچے پچھتاوے کی وہ منزل ہے جہاں زبان پر التجا بھی خاموش ہو جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
