“Such is the trust I place in Your boundless grace, that I persist still in each transgression.”
مجھے تیری بخشش اور عنایات پر ایسا بھروسا ہے کہ میں مسلسل اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر بضد ہوں۔
اس شعر میں شاعر نے اپنے معبود یا محبوب کے ساتھ ایک بے تکلف اور ناز بھرا تعلق دکھایا ہے۔ وہ اعتراف کرتا ہے کہ وہ بار بار غلطیاں کرتا ہے، لیکن اس کی وجہ کوئی سرکشی نہیں بلکہ محبوب کی بے پایاں بخشش اور رحمت پر پختہ بھروسا ہے۔ یہ انسان کی کمزوری اور ربِ کریم کی لاانتہا عطا کے درمیان کا ایک پُرخلوص اور دل موہ لینے والا ناطہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
