غزل

بری اور بھلی سب گزر جائے گی

بری اور بھلی سب گزر جائے گی
الطاف حسین حالی· Ghazal· 7 shers· radif: जाएगी

یہ غزل زندگی کی ناپائیداری اور وقت کے تغیر کو خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ اس میں امید اور تسلیم و رضا کا یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ اچھے اور برے تمام حالات بالآخر گزر جاتے ہیں اور زندگی کی کشتی پار لگ جاتی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
बुरी और भली सब गुज़र जाएगी ये कश्ती यूँही पार उतर जाएगी
بری اور بھلی سب گزر جائے گی یہ کشتی یوں ہی پار اتر جائے گی
اچھا ہو یا برا ہر طرح کا وقت گزر جائے گا اور یہ کشتی یوں ہی کنارے لگ جائے گی۔
2
मिलेगा न गुलचीं को गुल का पता हर इक पंखुड़ी यूँ बिखर जाएगी
ملے گا نہ گلچیں کو گل کا پتا ہر اک پنکھڑی یوں بکھر جائے گی
پھول چننے والے کو پھول کا کوئی نام و نشان نہیں ملے گا، کیونکہ اس کی ہر ایک پنکھڑی اس طرح بکھر جائے گی۔
3
रहेंगे न मल्लाह ये दिन सदा कोई दिन में गंगा उतर जाएगी
رہیں گے نہ ملاح یہ دن سدا کوئی دن میں گنگا اتر جائے گی
اے ملاح! یہ دن ہمیشہ ایسے نہیں رہیں گے، کچھ ہی دنوں میں گنگا کا پانی اتر جائے گا۔
4
इधर एक हम और ज़माना उधर ये बाज़ी तो सो बिसवे हर जाएगी
ادھر ایک ہم اور زمانہ ادھر یہ بازی تو سو بسوے ہر جائے گی
ایک طرف اکیلے ہم ہیں اور دوسری طرف سارا زمانہ ہے، اس لیے یہ بازی تو یقینی طور پر ہار ہی جائے گی۔
5
बनावट की शेख़ी नहीं रहती शैख़ ये इज़्ज़त तो जाएगी पर जाएगी
بناوٹ کی شیخی نہیں رہتی شیخ یہ عزت تو جائے گی پر جائے گی
اے شیخ، بناوٹ کی شیخی اور دکھاوے کا غرور ہمیشہ قائم نہیں رہتا، تمہاری یہ عزت بالآخر ختم ہو کر ہی رہے گی۔
6
न पूरी हुई हैं उमीदें न हों यूँही उम्र सारी गुज़र जाएगी
نہ پوری ہوئی ہیں امیدیں نہ ہوں یوں ہی عمر ساری گزر جائے گی
نہ تو کبھی امیدیں پوری ہوئی ہیں اور نہ کبھی ہوں گی، اور بس اسی طرح یہ ساری زندگی گزر جائے گی۔
7
सुनेंगे न 'हाली' की कब तक सदा यही एक दिन काम कर जाएगी
سنیں گے نہ حالیؔ کی کب تک صدا یہی ایک دن کام کر جائے گی
لوگ آخر کب تک حالیؔ کی پکار نہیں سنیں گے، ایک نہ ایک دن یہی صدا ضرور اپنا اثر دکھائے گی۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.