“Neither have hopes been fulfilled, nor shall they ever be; and just like this, an entire lifetime will pass away.”
نہ تو کبھی امیدیں پوری ہوئی ہیں اور نہ کبھی ہوں گی، اور بس اسی طرح یہ ساری زندگی گزر جائے گی۔
یہ شعر ادھوری حسرتوں اور ان کے ساتھ جینے کے ایک خاموش اور گہرے سمجھوتے کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر اب زمانے یا نصیب سے کوئی گلہ نہیں کر رہا، بلکہ اس نے اس کڑوی سچائی کو تسلیم کر لیا ہے کہ تمناؤں کا ناپید ہونا ہی اس کا مقدر ہے۔ اس میں اس تھکن اور ملال کا اظہار ہے جہاں انسان امیدوں کے نہ بر آنے کا عادی ہو جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمر تمام ہو جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
