“These days will not endure forever, O boatman; in a matter of days, the Ganga's tide shall surely recede.”
اے ملاح! یہ دن ہمیشہ ایسے نہیں رہیں گے، کچھ ہی دنوں میں گنگا کا پانی اتر جائے گا۔
یہ شعر وقت کی گردش اور انسانی عروج کے عارضی پن پر ایک دل نشین تبصرہ ہے۔ جب دریا چڑھا ہوتا ہے تو ملاح کو اپنی ناگزیر ضرورت اور طغیانی پر غرور ہونے لگتا ہے، مگر شاعر اسے خبردار کرتا ہے کہ یہ دور سدا نہیں رہے گا۔ گنگا کے اترنے کا استعارہ دراصل اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ اختیار، اقتدار اور حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے، اس لیے عروج کے لمحوں میں خاکساری کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
