“Pretensions and false boasts cannot endure, O Sheikh; this honor of yours is bound to go, and go it surely will.”
اے شیخ، بناوٹ کی شیخی اور دکھاوے کا غرور ہمیشہ قائم نہیں رہتا، تمہاری یہ عزت بالآخر ختم ہو کر ہی رہے گی۔
اس شعر میں شاعر نے بڑی خوبصورتی اور شوخی کے ساتھ ظاہر دار شیخ کی منافقت پر چوٹ کی ہے۔ لفظ 'شیخ' اور 'شیخی' کے دلکش تلازمے کے ذریعے یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ ریاکاری اور بناوٹ کا بھرم صدا قائم نہیں رہ سکتا۔ شاعر دوستانہ لہجے میں متنبہ کرتا ہے کہ جو عزت سچائی کے بجائے جھوٹے دکھاوے پر کھڑی ہو، وہ بالآخر ایک دن ضرور چھن کر رہتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
