غزل
آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہم
آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہم
یہ غزل عشقِ بتاں میں الجھے رہنے اور رازداروں کے سامنے بھی مکمل طور پر نہ کھل پانے کی کیفیت کو بیان کرتی ہے۔ دل کے اندیشوں اور گردشِ زمانہ کے خوف سے نالاں شاعر اب محبت کے سائے سے بھی دور بھاگنے کی بے بسی ظاہر کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
आगे बढ़े न क़िस्सा-ए-इश्क़-ए-बुताँ से हम
सब कुछ कहा मगर न खुले राज़दाँ से हम
آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہم
سب کچھ کہا مگر نہ کھلے راز داں سے ہم
ہم محبوباؤں کے عشق کی کہانی سے آگے نہ بڑھ سکے، اور سب کچھ کہہ دینے کے باوجود اپنے رازدار کے سامنے بھی دل کا راز نہ کھول سکے۔
2
अब भागते हैं साया-ए-इश्क़-ए-बुताँ से हम
कुछ दिल से हैं डरे हुए कुछ आसमाँ से हम
اب بھاگتے ہیں سایۂ عشق بتاں سے ہم
کچھ دل سے ہیں ڈرے ہوئے کچھ آسماں سے ہم
اب ہم محبوباؤں کے عشق کے سائے سے بھی دور بھاگتے ہیں، کیونکہ کچھ ہم اپنے دل سے ڈرے ہوئے ہیں اور کچھ آسمان یعنی گردشِ تقدیر سے خوفزدہ ہیں۔
3
हँसते हैं उस के गिर्या-ए-बे-इख़्तियार पर
भूले हैं बात कह के कोई राज़दाँ से हम
ہنستے ہیں اس کے گریۂ بے اختیار پر
بھولے ہیں بات کہہ کے کوئی راز داں سے ہم
ہم اس کے بے بس ہو کر رونے پر ہنس رہے ہیں، یہ بھول کر کہ ہم نے بھی کسی رازدار سے اپنا کوئی راز کہہ دیا ہے۔
4
अब शौक़ से बिगड़ के ही बातें किया करो
कुछ पा गए हैं आप के तर्ज़-ए-बयाँ से हम
اب شوق سے بگڑ کے ہی باتیں کیا کرو
کچھ پا گئے ہیں آپ کے طرز بیاں سے ہم
اب آپ شوق سے ناراض ہو کر ہی بات کیا کریں، کیونکہ ہم آپ کے انداز گفتگو سے کچھ سمجھ چکے ہیں۔
5
जन्नत में तो नहीं अगर ये ज़ख़्म-ए-तेग़-ए-इश्क़
बदलेंगे तुझ को ज़िंदगी-ए-जावेदाँ से हम
جنت میں تو نہیں اگر یہ زخم تیغ عشق
بدلیں گے تجھ کو زندگیٔ جاوداں سے ہم
اے عشق کی تلوار کے زخم! اگر تو جنت میں موجود نہیں ہے، تو ہم ابدی زندگی کے بدلے بھی تجھ ہی کو حاصل کریں گے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
