“We laugh at their weeping, so helpless and wild, / Forgetting the secret we once told our confidant.”
ہم اس کے بے بس ہو کر رونے پر ہنس رہے ہیں، یہ بھول کر کہ ہم نے بھی کسی رازدار سے اپنا کوئی راز کہہ دیا ہے۔
یہ شعر انسانی فطرت کی ستم ظریفی اور خود فریبی کا ایک خوبصورت نوحہ ہے۔ ہم کسی کو بے بس ہو کر زار و قطار روتے دیکھ کر اس پر ہنس تو دیتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم نے بھی اپنا کوئی راز کسی رازداں کے حوالے کر رکھا ہے۔ دوسروں کے بے اختیار درد پر مسکراتے ہوئے ہم یہ بھول بیٹھتے ہیں کہ ہماری اپنی بے بسی بھی کسی پل بے پردہ ہو سکتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
