جنت میں تو نہیں اگر یہ زخم تیغ عشق بدلیں گے تجھ کو زندگیٔ جاوداں سے ہم

“If you are not to be found in Paradise, O wound of love's sharp blade, / We shall gladly barter away eternal life to keep you.”

— الطاف حسین حالی
معنی

اے عشق کی تلوار کے زخم! اگر تو جنت میں موجود نہیں ہے، تو ہم ابدی زندگی کے بدلے بھی تجھ ہی کو حاصل کریں گے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے عشق کے درد اور اس کے زخموں کو جنت کی تمام نعمتوں اور حیاتِ ابدی سے بھی اعلیٰ مقام دیا ہے۔ وہ عشق کی تلوار سے لگے زخم سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اگر بہشت میں تیرا یہ میٹھا سوز موجود نہیں، تو ہم ہمیشہ کی زندگی کو قربان کر کے بھی تجھے ہی سنبھالے رکھیں گے۔ عاشقی کی روایت میں محبوب کے دیے ہوئے زخم محض دکھ نہیں بلکہ وہ انمول جاگیر ہیں جن کے بغیر جنت کا سکون بھی ادھورا لگتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.