“Now we run even from the shadow of the love of idols: partly terrified of our own heart, partly of the skies.”
اب ہم محبوباؤں کے عشق کے سائے سے بھی دور بھاگتے ہیں، کیونکہ کچھ ہم اپنے دل سے ڈرے ہوئے ہیں اور کچھ آسمان یعنی گردشِ تقدیر سے خوفزدہ ہیں۔
شاعر محبت کی پرانی چوٹوں اور تلخ تجربات کے بعد اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں وہ عشق کے سائے سے بھی دور بھاگتا ہے۔ اسے ایک طرف تو اپنے ہی نادان اور کمزور دل کا خوف ہے جو فوراً بہک جاتا ہے، اور دوسری طرف گردشِ دوراں یعنی فلک کی ستم ظریفیوں کا ڈر ہے جو ہر بار عاشق کو توڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ یہ اپنے جذبوں اور مقدر کی بے رحمی کے ہاتھوں سہمے ہوئے دل کی نہایت پُراثر تصویر کشی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
