“Speak now in anger as freely as you please / For we have gleaned a secret from your very way of speech.”
اب آپ شوق سے ناراض ہو کر ہی بات کیا کریں، کیونکہ ہم آپ کے انداز گفتگو سے کچھ سمجھ چکے ہیں۔
اس شعر میں محبوب کی مصنوعی ناراضی پر ایک بے حد پیاری اور دلنشیں چھیڑ چھاڑ ہے۔ محبوب کے بظاہر سخت اور بگڑے ہوئے لہجے کے پیچھے جو چاہت اور اپنائیت پوشیدہ تھی، عاشق نے اسے بھانپ لیا ہے۔ اب وہ مسکرا کر کہتا ہے کہ آپ شوق سے غصہ فرمائیے، کیونکہ ہم آپ کے اندازِ بیاں سے یہ راز پا چکے ہیں کہ اس خفگی کے پردے میں بھی صرف محبت ہی چھپی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
