غزل
اکھا بھگت 1
اکھا بھگت 1
یہ غزل سطحی مذہبی عقیدت اور رسومات پر طنزیہ تنقید کرتی ہے۔ یہ ایسے لوگوں کو بیان کرتی ہے جو حقیقی سمجھ کے بغیر اعمال میں ملوث ہوتے ہیں، جیسے ایک اندھا سسر اور بہری بہو کہانی سننے جاتے ہیں۔ اشعار میں یہ افسوس کیا گیا ہے کہ برسوں تک تلک لگانے اور زیارتوں پر جانے جیسے ظاہری اعمال میں مشغول رہنے کے باوجود، باطنی اخلاص کی کمی کی وجہ سے خدا کی حقیقی پناہ یا وصال حاصل نہیں ہو پاتا۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
આંધળો સસરો ને બહેરી વહુ,
કથા સાંભળવા ચાલ્યા સહુ
આંધળો સસરો ને સળંગટ વહુ,કથા સાંભળવા ચાલ્યા સહુ
ایک اندھا سسر اور ایک بہری بہو، دونوں ہی کتھا سننے چل پڑے ہیں۔
2
કીધુ કાંઇ ને સાંભળ્યું કશુ,ં
આંખનુ ં કાજળ ગાલે ઘસ્યુ.ં
کچھ اور کہا گیا اور کچھ اور ہی سنا گیا، ٹھیک ویسے ہی جیسے آنکھوں کا کاجل گالوں پر مل دیا گیا ہو۔
3
તિલક કરતાં ત્રેપન થયાં,
ને જપમાળાનાં નાકાં ગયાં,
تِلک لگاتے لگاتے ترپن سال گزر گئے، اور جپ مالا کے دانوں کے سوراخ بھی گھس گئے۔
4
તીરથ ફરી ફરી થાકયા ચરણ,
તોય ન પોહોંચ્યો હરિને શરણ.
بار بار تیرتھ یاتراؤں پر جا کر میرے قدم تھک گئے، پھر بھی میں ہری کی پناہ میں نہیں پہنچ سکا۔
5
કથા સુણી સુણી ફૂટ્યા કાન,
તોય અખા ન આવ્યું બ્રહ્મજ્ઞાન.
کہانیاں سنتے سنتے میرے کان پھٹ گئے، پھر بھی، اکھا کہتا ہے کہ مجھے برہم گیان حاصل نہیں ہوا۔
6
એક મ ૂરખને એવી ટે વ,
પથ્થર એટલા પ ૂજે દે વ,
ایک مورکھ کی یہ عادت ہے کہ وہ ہر پتھر کو دیوتا سمجھ کر اس کی پوجا کرتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
