કથા સુણી સુણી ફૂટ્યા કાન,
તોય અખા ન આવ્યું બ્રહ્મજ્ઞાન.
“My ears have burst from listening to lore,Yet, Akha, no Brahman-knowledge came to my core.”
— اکھا بھگت
معنی
کہانیاں سنتے سنتے میرے کان پھٹ گئے، پھر بھی، اکھا کہتا ہے کہ مجھے برہم گیان حاصل نہیں ہوا۔
تشریح
یہ دوہا، جو دانا شاعر اکھا سے منسوب ہے، بڑے خوبصورت اور گہرے انداز میں صرف سننے کے ذریعے علم حاصل کرنے کی حدود کو بیان کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'کہانیاں سن سن کر ان کے کان پھٹ گئے ہیں'، یہ ایک جاندار تصویر ہے کہ کیسے محض معلومات کی بھرمار ہو جاتی ہے۔ اس قدر سن کر بھی انہیں 'برہمن گیان' حاصل نہ ہوا، جس کا مطلب ہے کہ حقیقی روحانی سمجھ صرف سننے سے نہیں بلکہ اندرونی تبدیلی سے آتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سچا علم صرف حقائق جمع کرنے سے نہیں، بلکہ باطنی ادراک سے حاصل ہوتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
