غزل
امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے
امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے
یہ غزل ٹوٹی ہوئی امیدوں، قلبی شکستگی اور گہری مایوسی کی دردناک تصویر کشی کرتی ہے۔ زندگی کی تلخیوں نے شاعر کے دل کو اندر سے مار دیا ہے، اور سانسوں کی موجودگی کے باوجود وہ خود کو بے جان محسوس کرتے ہوئے بس اجل کے آخری فیصلے کا منتظر ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
उम्मीद टूटी हुई है मेरी जो दिल मिरा था वो मर चुका है
जो ज़िंदगानी को तल्ख़ कर दे वो वक़्त मुझ पर गुज़र चुका है
امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے
جو زندگانی کو تلخ کر دے وہ وقت مجھ پر گزر چکا ہے
میری امید ٹوٹ چکی ہے اور جو دل میرا تھا وہ مر چکا ہے، زندگی کو تلخ بنا دینے والا وقت مجھ پر گزر چکا ہے۔
2
अगरचे सीने में साँस भी है नहीं तबीअत में जान बाक़ी
अजल को है देर इक नज़र की फ़लक तो काम अपना कर चुका है
اگرچہ سینے میں سانس بھی ہے نہیں طبیعت میں جان باقی
اجل کو ہے دیر اک نظر کی فلک تو کام اپنا کر چکا ہے
اگرچہ سینے میں ابھی سانس چل رہی ہے لیکن جسم میں جان باقی نہیں رہی۔ اب تو بس موت کی ایک نظر کی دیر ہے، آسمان تو اپنا کام تمام کر چکا ہے۔
3
ग़रीब-ख़ाने की ये उदासी ये ना-दुरुस्ती नहीं क़दीमी
चहल पहल भी कभी यहाँ थी कभी ये घर भी सँवर चुका है
غریب خانے کی یہ اداسی یہ نا درستی نہیں قدیمی
چہل پہل بھی کبھی یہاں تھی کبھی یہ گھر بھی سنور چکا ہے
میرے اس غریب خانے کی یہ اداسی اور بدحالی پرانی نہیں ہے۔ کبھی یہاں بھی چہل پہل ہوا کرتی تھی اور یہ گھر بھی سنورا ہوا تھا۔
4
ये सीना जिस में ये दाग़ में अब मसर्रतों का कभी था मख़्ज़न
वो दिल जो अरमान से भरा था ख़ुशी से उस में ठहर चुका है
یہ سینہ جس میں یہ داغ میں اب مسرتوں کا کبھی تھا مخزن
وہ دل جو ارمان سے بھرا تھا خوشی سے اس میں ٹھہر چکا ہے
یہ سینہ جس میں اب صرف داغ ہیں کبھی خوشیوں کا خزانہ تھا، اور وہ دل جو کبھی ارمانوں سے لبریز تھا اب اس میں سکون سے ٹھہر چکا ہے۔
5
ग़रीब अकबर के गर्द क्यूँ में ख़याल वाइ'ज़ से कोई कह दे
उसे डराते हो मौत से क्या वो ज़िंदगी ही से डर चुका है
غریب اکبر کے گرد کیوں میں خیال واعظ سے کوئی کہہ دے
اسے ڈراتے ہو موت سے کیا وہ زندگی ہی سے ڈر چکا ہے
کوئی جا کر واعظ سے کہہ دے کہ وہ غریب اکبر کو موت سے کیا ڈراتا ہے، وہ تو پہلے ہی زندگی سے خوفزدہ ہو چکا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
