امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے — اکبر الہ آبادی
“My hope lies shattered, and the heart that once was mine has died; that trial which turns all life to gall has already passed me by.”
معنی
میری امید ٹوٹ چکی ہے اور جو دل میرا تھا وہ مر چکا ہے، زندگی کو تلخ بنا دینے والا وقت مجھ پر گزر چکا ہے۔
تشریح
یہ شعر اس گہری بے حسی اور سناٹے کی تصویر کشی کرتا ہے جہاں انسان دکھ اور تکلیف کی آخری حدیں پار کر چکا ہو۔ شاعر کہتے ہیں کہ زندگی کو تلخ بنا دینے والا بدترین دور مجھ پر پہلے ہی گزر چکا ہے اور اسی صدمے میں میری تمام امیدیں اور دل دونوں فنا ہو گئے۔ جب روح پر اتنا بڑا حادثہ گزر جائے، تو انسان کے اندر سے مزید کسی نئے دکھ یا آزمائش کا خوف ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
