غریب اکبر کے گرد کیوں میں خیال واعظ سے کوئی کہہ دے — اکبر الہ آبادی
“Let someone go and tell the preacher: why frighten poor Akbar with death? Why threaten him with mortal dread, who is already terrified of life itself?”
معنی
کوئی جا کر واعظ سے کہہ دے کہ وہ غریب اکبر کو موت سے کیا ڈراتا ہے، وہ تو پہلے ہی زندگی سے خوفزدہ ہو چکا ہے۔
تشریح
اکبرؔ اس شعر میں ناصح اور واعظ کو مخاطب کر کے بڑی خوبصورت چوٹ کرتے ہیں کہ کوئی اس واعظ کو سمجھائے کہ غریب اکبر کو موت کا خوف دکھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جس شخص نے زندگی کی تلخیاں، دکھ اور آفتیں اس قدر جھیل لی ہوں کہ وہ خود جینے سے ہی خائف ہو گیا ہو، اسے بھلا موت کیا ڈرائے گی۔ یہاں زندگی کے عذاب کو موت کے خوف سے کہیں بڑا اور سنگین دکھایا گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
