غریب خانے کی یہ اداسی یہ نا درستی نہیں قدیمی — اکبر الہ آبادی

غریب خانے کی یہ اداسی یہ نا درستی نہیں قدیمی چہل پہل بھی کبھی یہاں تھی کبھی یہ گھر بھی سنور چکا ہے

“This gloom and ruin of my humble dwelling are not from times long past; cheer and bustle once thrived here too, this home too was once adorned.”

— اکبر الہ آبادی

معنی

میرے اس غریب خانے کی یہ اداسی اور بدحالی پرانی نہیں ہے۔ کبھی یہاں بھی چہل پہل ہوا کرتی تھی اور یہ گھر بھی سنورا ہوا تھا۔

تشریح

شاعر اپنے خستہ حال گھر، جو دراصل اس کے شکستہ دل کا استعارہ ہے، کو دیکھ کر کہتا ہے کہ یہ خاموشی اور ویرانی ہمیشہ سے اس کا مقدر نہیں تھی۔ کبھی یہاں بھی ہنسی خوشی کی چہل پہل تھی اور یہ آنگن بھی محبت کی رونقوں سے خوب سجا ہوا تھا۔ یہ شعر ماضی کے پُرسکون لمحات کو یاد کر کے حال کی تنہائی اور اداسی کے درد کو اور گہرا بنا دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.