یہ سینہ جس میں یہ داغ میں اب مسرتوں کا کبھی تھا مخزن — اکبر الہ آبادی
“This chest, where only scars now dwell, was once a treasure-house of joy; that heart, once brimming with desire, has found its resting place at last.”
معنی
یہ سینہ جس میں اب صرف داغ ہیں کبھی خوشیوں کا خزانہ تھا، اور وہ دل جو کبھی ارمانوں سے لبریز تھا اب اس میں سکون سے ٹھہر چکا ہے۔
تشریح
یہ شعر ماضی کی شادمانی اور حال کی ویرانی کے درمیان ایک دل کش مگر اداس تقابل پیش کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جس سینے میں اب فقط داغ باقی ہیں، وہ کبھی بے شمار ارمانوں اور مسرتوں کا گنجینہ ہوا کرتا تھا۔ یہ کیفیت دل کے اس لمحے کی عکاسی کرتی ہے جہاں تمناؤں کا شور تھم کر ایک گہری، پرسکون اور صابرانہ خاموشی میں بدل جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
