غزل

ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی

ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی
اکبر الہ آبادی· Ghazal· 5 shers· radif: हो चुकी

یہ غزل بہار کے اختتام اور خزاں کی آمد کے المیے کو بیان کرتی ہے، جو حسن، شباب اور مسرت کی ناپائیداری کا استعارہ ہے۔ اجڑتے ہوئے چمن اور خاموش ہوتی نغمگی کے ذریعے شاعر نے زندگی کی بے ثباتی پر گہرے ملال اور یاسیت کا اظہار کیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
ख़त्म किया सबा ने रक़्स गुल पे निसार हो चुकी जोश-ए-नशात हो चुका सौत-ए-हज़ार हो चुकी
ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی جوش نشاط ہو چکا صوت ہزار ہو چکی
صبح کی ہوا پھول پر نچھاور ہو کر اپنا رقص ختم کر چکی ہے؛ خوشی کا جوش ٹھنڈا پڑ چکا ہے اور بلبل کی آواز بھی خاموش ہو چکی ہے۔
2
रंग-ए-बनफ़शा मिट गया सुंबुल-ए-तर नहीं रहा सेहन-ए-चमन में ज़ीनत-ए-नक़्श-ओ-निगार हो चुकी
رنگ بنفشہ مٹ گیا سنبل تر نہیں رہا صحن چمن میں زینت نقش و نگار ہو چکی
بنفشہ کا رنگ مٹ گیا ہے اور تر و تازہ سنبل بھی باقی نہیں رہا، باغ کے صحن میں نقش و نگار اور حسن کی رونق اب ختم ہو چکی ہے۔
3
मस्ती-ए-लाला अब कहाँ उस का प्याला अब कहाँ दौर-ए-तरब गुज़र गया आमद-ए-यार हो चुकी
مستی لالہ اب کہاں اس کا پیالہ اب کہاں دور طرب گزر گیا آمد یار ہو چکی
اب لالہ کی مستی اور اس کا پیالہ کہاں رہ گیا ہے؟ خوشی اور عیش کا زمانہ گزر چکا ہے اور محبوب کی آمد بھی ہو چکی ہے۔
4
रुत वो जो थी बदल गई आई बस और निकल गई थी जो हवा में निकहत-ए-मुश्क-ए-ततार हो चुकी
رت وہ جو تھی بدل گئی آئی بس اور نکل گئی تھی جو ہوا میں نکہت مشک تتار ہو چکی
وہ خوشگوار موسم بدل گیا ہے، وہ بس آیا ہی تھا اور فوراً گزر گیا۔ ہوا میں تاتاری مشک کی جو خوشبو رچی ہوئی تھی، وہ اب ختم ہو چکی ہے۔
5
अब तक उसी रविश पे है 'अकबर'-ए-मस्त-ओ-बे-ख़बर कह दे कोई अज़ीज़-ए-मन फ़स्ल-ए-बहार हो चुकी
اب تک اسی روش پہ ہے اکبرؔ مست و بے خبر کہہ دے کوئی عزیز من فصل بہار ہو چکی
مست اور بے خبر اکبر اب تک اسی پرانے طور طریقے پر چل رہا ہے؛ کوئی اسے بتا دے، اے میرے عزیز، کہ بہار کا موسم گزر چکا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.