“The violet's hue has faded away, the fresh hyacinth is no more; in the garden's courtyard, the painted splendor has run its course.”
بنفشہ کا رنگ مٹ گیا ہے اور تر و تازہ سنبل بھی باقی نہیں رہا، باغ کے صحن میں نقش و نگار اور حسن کی رونق اب ختم ہو چکی ہے۔
یہ شعر وقت کے گزرنے اور زوالِ حسن کا ایک انتہائی دل گداز مرقع ہے۔ بنفشہ کا شوخ رنگ اڑ چکا ہے اور تروتازہ سنبل بھی سوکھ گیا ہے، یعنی چمن کا تمام تر بناؤ سنگھار اور نکھار اب اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ دراصل باغ کے اس اجڑنے کے پردے میں شاعر جوانی، عروج اور زندگی کی دلکش رعنائیوں کے رخصت ہو جانے پر ایک اداس سا نوحہ کہہ رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
