“Still drunk and lost in reverie, oblivious Akbar walks the same old way; Let someone tell him, O dear friend, the season of spring has passed away.”
مست اور بے خبر اکبر اب تک اسی پرانے طور طریقے پر چل رہا ہے؛ کوئی اسے بتا دے، اے میرے عزیز، کہ بہار کا موسم گزر چکا ہے۔
اس شعر میں اکبرؔ الہ آبادی نے گزرتی عمر اور غفلت کی کیفیت کو بڑے پیارے اور پردرد انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ خود پر مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اب بھی جوانی والی مستی اور لاپرواہی کی پرانی روش پر چل رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بہار کا سنہرا موسم کب کا رخصت ہو چکا۔ 'فصلِ بہار' دراصل شباب اور آسودگی کا استعارہ ہے، اور شاعر اپنے کسی مخلص دوست سے کہہ رہا ہے کہ وہ اسے حقیقت کا آئینہ دکھا کر اس خمار سے باہر نکالے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
