“Where is the intoxication of the tulip now, where is its cup gone? The age of revelry has passed away, the beloved's arrival is done.”
اب لالہ کی مستی اور اس کا پیالہ کہاں رہ گیا ہے؟ خوشی اور عیش کا زمانہ گزر چکا ہے اور محبوب کی آمد بھی ہو چکی ہے۔
شاعر نے گلِ لالہ کے پیالے نما وجود اور اس کے رنگیں خمار کے ذریعے بہار اور جوانی کے پُرجوش لمحوں کی تصویر کشی کی ہے۔ محبوب کی آمد کا جو ایک سحر انگیز انتظار اور جشن کا زمانہ تھا، وہ لمحہ اب مکمل ہو کر گزر چکا ہے۔ یہ شعر وصل کے بعد چھا جانے والی اس دھیمی اور گہری اداسی کو سمیٹتا ہے جب ہنگامے تھم جاتے ہیں اور صرف ایک اداس یاد باقی رہ جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
