رت وہ جو تھی بدل گئی آئی بس اور نکل گئی تھی جو ہوا میں نکہت مشک تتار ہو چکی

“That season has transformed; it scarcely came before it slipped away / The fragrance of Tartary's musk that filled the breeze is now no more.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

وہ خوشگوار موسم بدل گیا ہے، وہ بس آیا ہی تھا اور فوراً گزر گیا۔ ہوا میں تاتاری مشک کی جو خوشبو رچی ہوئی تھی، وہ اب ختم ہو چکی ہے۔

تشریح

یہ شعر زندگی کے سب سے پُربہار اور دلکش لمحات کے تیزی سے گزر جانے کا نوحہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ خوشیوں اور شباب کا وہ حسین موسم اتنی جلدی رخصت ہو گیا جیسے مشکِ تاتار کی نایاب خوشبو ہوا میں پھیلی اور پل بھر میں تمام ہو گئی۔ یہ خوبصورت استعارہ دراصل اس میٹھی اداسی اور حسرت کو ظاہر کرتا ہے جو اچھے وقت کے گزر جانے کے بعد دل میں باقی رہ جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.