ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی جوش نشاط ہو چکا صوت ہزار ہو چکی

“The breeze has ceased its whirling dance, having spent itself upon the rose; The surge of joy has had its day, the nightingale's song reached its close.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

صبح کی ہوا پھول پر نچھاور ہو کر اپنا رقص ختم کر چکی ہے؛ خوشی کا جوش ٹھنڈا پڑ چکا ہے اور بلبل کی آواز بھی خاموش ہو چکی ہے۔

تشریح

یہ شعر اس گہرے اور پرسکون لمحے کی عکاسی کرتا ہے جب بہار کا سارا جشن تمام ہو جاتا ہے اور ہر سو خاموشی چھا جاتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ صبا پھول پر اپنی جان نثار کر کے اپنا رقص سمیٹ چکی ہے، اور نہ وہ نشاط کی مستی باقی رہی نہ بلبل کے ترانے۔ یہ دراصل حسن، محبت اور خوشیوں کے اس عارضی پن کا دلکش بیان ہے جو اپنے عروج پر پہنچ کر خاموش ہو جاتی ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.