غزل
جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا
جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا
یہ غزل محبوب کے حسنِ جاں بخش اور اس کے اعجاز نما جلووں کی تعریف پر مبنی ہے، جس میں حضرت عیسیٰؑ اور حضرت موسیٰؑ کی تلمیحات کے ذریعے عشق کی انتہا کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مجموعی لہجہ والہانہ، پُراثر اور محبوب کے دیدار کی لاثانی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
जो तुम्हारे लब-ए-जाँ-बख़्श का शैदा होगा
उठ भी जाएगा जहाँ से तो मसीहा होगा
جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا
اٹھ بھی جائے گا جہاں سے تو مسیحا ہوگا
جو شخص تمہارے زندگی بخشنے والے ہونٹوں کا دیوانہ ہوگا، وہ اگر اس دنیا سے رخصت بھی ہو جائے تو مسیحا بن جائے گا۔
2
वो तो मूसा हुआ जो तालिब-ए-दीदार हुआ
फिर वो क्या होगा कि जिस ने तुम्हें देखा होगा
وہ تو موسیٰ ہوا جو طالب دیدار ہوا
پھر وہ کیا ہوگا کہ جس نے تمہیں دیکھا ہوگا
وہ تو محض موسیٰ تھے جنہوں نے صرف دیدار کی تمنا کی تھی، پھر اس شخص کا کیا حال ہوگا جس نے سچ مچ تمہیں دیکھ لیا ہوگا۔
3
क़ैस का ज़िक्र मिरे शान-ए-जुनूँ के आगे
अगले वक़्तों का कोई बादिया-पैमा होगा
قیس کا ذکر مرے شان جنوں کے آگے
اگلے وقتوں کا کوئی بادیہ پیما ہوگا
میرے جنون کی شان کے سامنے قیس کا کیا ذکر، وہ تو پرانے وقتوں کا بس کوئی صحرا میں بھٹکنے والا رہا ہوگا۔
4
आरज़ू है मुझे इक शख़्स से मिलने की बहुत
नाम क्या लूँ कोई अल्लाह का बंदा होगा
آرزو ہے مجھے اک شخص سے ملنے کی بہت
نام کیا لوں کوئی اللہ کا بندا ہوگا
مجھے کسی خاص شخص سے ملنے کی شدید خواہش ہے۔ میں ان کا نام کیا لوں، وہ بھی اللہ کا کوئی بندہ ہی ہوگا۔
5
लाल-ए-लब का तिरे बोसा तो मैं लेता हूँ मगर
डर ये है ख़ून-ए-जिगर बाद में पीना होगा
لعل لب کا ترے بوسہ تو میں لیتا ہوں مگر
ڈر یہ ہے خون جگر بعد میں پینا ہوگا
میں تمہارے لعل جیسے سرخ ہونٹوں کا بوسہ تو لے لیتا ہوں، مگر ڈر یہ ہے کہ بعد میں مجھے خونِ جگر پینا پڑے گا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
