“Why speak of Qais before the grandeur of my madness? He must have been merely some desert-wanderer of bygone times.”
میرے جنون کی شان کے سامنے قیس کا کیا ذکر، وہ تو پرانے وقتوں کا بس کوئی صحرا میں بھٹکنے والا رہا ہوگا۔
اس شعر میں شاعر اپنے جنونِ عشق کی بلندی پر فخر کرتے ہوئے روایتی عاشق 'قیس' (مجنوں) کو بھی خود سے کمتر قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میرے جنون کی عظمت کے آگے قیس کی کیا حیثیت، وہ تو گزرے زمانے میں صحراؤں کی خاک چھاننے والا بس ایک معمولی مسافر رہا ہوگا۔ یہ دراصل عشق کی اس وارفتگی اور بے خودی کا اظہار ہے جہاں عاشق سمجھتا ہے کہ سچی دیوانگی صرف اسی پر تمام ہوئی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
