“Deep is my longing to meet a certain one; why utter a name, they must be merely a servant of God.”
مجھے کسی خاص شخص سے ملنے کی شدید خواہش ہے۔ میں ان کا نام کیا لوں، وہ بھی اللہ کا کوئی بندہ ہی ہوگا۔
اس شعر میں محبت کی بے چین تڑپ اور حیا کی خوبصورت پردہ داری سموئی ہوئی ہے۔ شاعر اپنے دل کی تمنا تو ظاہر کرتا ہے کہ اسے کسی سے ملنے کا شدید اشتیاق ہے، لیکن محبوب کا نام چھپا کر اسے فقط 'اللہ کا بندہ' کہہ دیتا ہے۔ یہ انداز دراصل محبوب کو زمانے کی رسوائی سے بچانے اور اس کی پہچان کو راز رکھنے کا ایک نہایت دلکش اور نازک پیرایہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
