“Whoever falls enraptured by your life-bestowing lips, shall rise as a Messiah, though from this world he slips.”
جو شخص تمہارے زندگی بخشنے والے ہونٹوں کا دیوانہ ہوگا، وہ اگر اس دنیا سے رخصت بھی ہو جائے تو مسیحا بن جائے گا۔
اس شعر میں شاعر نے محبوب کے لبوں کو زندگی بخشنے والا قرار دے کر اعجازِ مسیحائی سے تشبیہ دی ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ جو شخص ان معجزانہ لبوں کا والہانہ عاشق ہو جائے، وہ اگر اس فانی دنیا سے رخصت بھی ہو جائے تو اس کا جانا عام موت نہیں ہوتا۔ محبوب کے عشق کی برکت اسے فنا کے بعد بھی حیاتِ جاوداں بخش دیتی ہے، اور وہ دنیا سے جا کر بھی ایک مسیحا کی طرح امر ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
