“Moses was merely he who yearned to catch a glimpse; what then must become of the one who has truly gazed upon you?”
وہ تو محض موسیٰ تھے جنہوں نے صرف دیدار کی تمنا کی تھی، پھر اس شخص کا کیا حال ہوگا جس نے سچ مچ تمہیں دیکھ لیا ہوگا۔
شاعر نے یہاں حضرت موسیٰؑ کے کوہِ طور پر دیدار کی تمنا والے واقعے کا خوبصورت استعارہ باندھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو صرف دیکھنے کی آرزو میں موسیٰ بن گیا، تو ذرا سوچیے اس خوش نصیب کی کیفیت کا کیا عالم ہوگا جس نے واقعی محبوب کا جلوہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہو۔ یہ محبوب کے بے مثال حسن کا ایک ایسا والہانہ بیان ہے، جہاں اس کا دیدار کسی ماورائی اور روحانی تجربے سے کم نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
