“Though I may taste the ruby of your lips, a lingering dread remains: that afterwards, the blood of my own heart must be the cup I drain.”
میں تمہارے لعل جیسے سرخ ہونٹوں کا بوسہ تو لے لیتا ہوں، مگر ڈر یہ ہے کہ بعد میں مجھے خونِ جگر پینا پڑے گا۔
شاعر نے اس شعر میں محبت کی وقتی لذت اور اس کے بعد ملنے والے دائمی درد کی کشمکش کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ محبوب کے سرخ ہونٹوں کو لعل سے تشبیہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ بوسہ لینے کی تمنا تو پوری ہو جائے گی، مگر اندیشہ ہے کہ اس لمحاتی خوشی کی قیمت جگر کا خون پی کر چکانی پڑے گی۔ وصل کی یہ مٹھاس بعد میں ہجر کے کٹھن کرب کا سبب بنے گی، اور یہی عشق کی سب سے تلخ حقیقت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
