غزل
آہ جو دل سے نکالی جائے گی
آہ جو دل سے نکالی جائے گی
یہ غزل مظلوم عاشق کے دل سے نکلی ہوئی آہ کی پرتاثیر قوت کو بیان کرتی ہے کہ وہ کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ اس میں محبوب کی نزاکت اور اس کے جور و ستم کے تضاد کو واضح کرتے ہوئے دلی کرب اور تنبیہ کا گہرا تاثر پیش کیا گیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
आह जो दिल से निकाली जाएगी
क्या समझते हो कि ख़ाली जाएगी
آہ جو دل سے نکالی جائے گی
کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی
جو آہ دل سے نکلے گی، کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ رائیگاں جائے گی اور بے اثر رہے گی؟
2
इस नज़ाकत पर ये शमशीर-ए-जफ़ा
आप से क्यूँकर सँभाली जाएगी
اس نزاکت پر یہ شمشیر جفا
آپ سے کیوں کر سنبھالی جائے گی
آپ کی اس قدر نزاکت کے ہوتے ہوئے ظلم و ستم کی یہ تلوار آپ سے کیسے سنبھالی جائے گی؟
3
क्या ग़म-ए-दुनिया का डर मुझ रिंद को
और इक बोतल चढ़ा ली जाएगी
کیا غم دنیا کا ڈر مجھ رند کو
اور اک بوتل چڑھا لی جائے گی
مجھ شرابی کو زمانے کے دکھوں کا کیا ڈر ہو سکتا ہے؟ اگر کوئی غم ہوا بھی تو شراب کی ایک اور بوتل پی لی جائے گی۔
4
शैख़ की दावत में मय का काम क्या
एहतियातन कुछ मँगा ली जाएगी
شیخ کی دعوت میں مے کا کام کیا
احتیاطاً کچھ منگا لی جائے گی
شیخ کی دعوت میں شراب کا کیا کام ہے؟ پھر بھی احتیاط کے طور پر تھوڑی سی منگوا لی جائے گی۔
5
याद-ए-अबरू में है 'अकबर' महव यूँ
कब तिरी ये कज-ख़याली जाएगी
یاد ابرو میں ہے اکبرؔ محو یوں
کب تری یہ کج خیالی جائے گی
اکبر محبوب کی خمیدہ بھنوؤں کی یاد میں اس طرح کھویا ہوا ہے کہ معلوم نہیں اس کی یہ کج فکری کب دور ہوگی۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
