اس نزاکت پر یہ شمشیر جفا آپ سے کیوں کر سنبھالی جائے گی

“With grace so fragile, this heavy sword of cruelty— / How will it ever be wielded by hands so delicate?”

— اکبر الہ آبادی
معنی

آپ کی اس قدر نزاکت کے ہوتے ہوئے ظلم و ستم کی یہ تلوار آپ سے کیسے سنبھالی جائے گی؟

تشریح

اس شعر میں شاعر نے محبوب کی بے پناہ نزاکت اور اس کے ستم گرانہ انداز کے درمیان ایک خوبصورت تضاد کھینچا ہے۔ وہ بڑی محبت اور شوخی سے پوچھتا ہے کہ آپ تو اتنے نازک ہیں، پھر مجھ پر ظلم ڈھانے کے لیے یہ بھاری بھرکم تلوار آپ سے کیسے سنبھلے گی؟ اس میٹھے سے شکوے میں محبوب کے ستم کا دکھ کم اور اس کی نزاکت و حسن کی لاجواب تعریف زیادہ جھلکتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.